Breaking News
Home / پاکستان / صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اپنی اہلیہ بیگم ثمینہ علوی کے ہمراہ ہاتھی “کاون” کی کمبوڈیا روانگی کی تقریب میں شرکت

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اپنی اہلیہ بیگم ثمینہ علوی کے ہمراہ ہاتھی “کاون” کی کمبوڈیا روانگی کی تقریب میں شرکت

اسلام آباد۔24نومبر:صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنی اہلیہ بیگم ثمینہ علوی کے ہمراہ بچوں کے پسندیدہ ہاتھی “کاون” کی کمبوڈیا روانگی سے متعلق الوداعی تقریب میں شرکت کی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے خصوصی میں تقریب میں شرکت کے لئے مرغزار چڑیا گھر کا دورہ کیا ۔اس موقع پر وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل ، وزیرا عظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی امین اسلم اور جانوروں کے تحفظ کی تنظیم فورپاز کے حکام موجود تھے۔ اس موقع پر جانوروں کے تحفظ کی تنظیم فور پاز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عامر خلیل نے کاون ہاتھی کی کمبوڈیا منتقلی اور دیکھ بھال کے لئے انتظامات سے متعلق بریفنگ دی۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے اسلامی روایات کے تناظر میں جانوروں کے تحفظ اور انہیں سازگار ماحول فراہم کرنے کے حوالے سے شاندار فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچپن میں جانوروں کے بچوں کو ان کی مائوں سے علیحدہ کرنے سے ان کے احساسات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ صدر نے امید ظاہر کی کہ کاون ہاتھی کمبوڈیا میں اپنے دیگر ساتھی ہاتھیوں سے مل کر خوشی محسوس کرے گا۔ صدر مملکت نے اس حوالے سے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ صاف شفاف پاکستان تحریک کے تحت مارگلہ نیشنل پارک کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں ۔ انہوں نے عوام میں جانوروں کے حقوق اور ان کی دیکھ بھال کے لئے ساز گار ماحول کی فراہمی سے متعلق آگاہی پیدا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے مارگلہ ہلز کے جانوں کے تحفظ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے مرغزار چڑیا گھر کے جانوروں کی دوسری جگہ منتقلی کے عمل پر اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی خدمات کی تعریف کی ۔ صدر مملکت نے جانوروں پر مظالم کی روک تھام کے قانون 1890 پر عملدرآمد پر زور دیا جس میں جانوروں کے تحفظ سے متعلق اچھی بنیادیں فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کے بچوں اور شہریوں کے لئے اسلام آباد زو کے دوربارہ قیام کے عمل میں تیزی لانے پر زور دیا۔ 35 سال سے اسلام آبادمیں مقیم کاون ہاتھی کو مناسب دیکھ بھال اور قدرتی ماحول کی فراہمی کے تناظر میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر کمبوڈیا کے جنگلی حیات کے مسکن میں منتقل کیا جائے گا۔ بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول کاون ہاتھی کو 1985 میں سری لنکا میں پیدا ہوا۔ سری لنکا کی حکومت نے اسے تحفظے میں صدر پاکستان کو دیا۔ 1990 میں ایک ہاتھی ساہلی کو بنگلہ دیش سے لایا گیا جو کہ 2012 تک اپنی موت تک کاون کے ساتھ رہا۔ جانوروں کے حقوق کے سرگرم کارکنوں نے کاون کی آزادی کے لئے مہم چلائی تاکہ اس کی بہتر انداز میں دیکھ بھال کی جا سکے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 21 مئی 2020 کو تمام جانوروں بالخصوص کاون کو فوری طورپر جنگلی حیات کے محفوظ مسکن میں منتقل کرنے کا حکم دیا۔ کاون کی منتقلی کے بعد دو بھیڑیوں کو 6 دسمبر کو اردن میں جنگلی حیا ت کے مسکن میں منتقل کیا جائےگا جس کے بعد مرغزار چڑیا گھر سے تمام جانوروں کی دوسرے مقامات پر منتقلی مکمل ہو جائے گی

About Momin Masood

Avatar

Check Also

بھارت اپنے داخلی معاملات سے توجہ ہٹانے کیلئے پورے خطے کے امن کو تہہ و بالا کرنے پر تلا ہوا ہے، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

اسلام آباد۔18جنوری :وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم نے پہلے …

Live Radio Stream