عالمی ادارہ صحت کی 148ویں ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس

Momin Masood

ینوا۔19جنوری:عالمی ادارہ صحت کی 148ویں ایگزیکٹو کمیٹی کا آن لائن اجلاس شروع ہو گیا ہے جو26 جنوری تک جاری رہے گا۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایدھانوم گیبریسس نے اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوول کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے ایک سال بعد ہی محفوظ اور موثر ویکسین کی تیاری کی گئی جو کہ شاندارسائنسی کامیابی اور مستقبل کے لیے امید ہے۔حال ہی میں تیزی سے پھیلنے والے متغیر وائرس کی وجہ سے ویکسینیشن کی اہمیت زیادہ نمایاں ہورہی ہےتاہم ویکسینیشن کے عمل میں عدم مساوات ،ایک اہم خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کی پہلی کھیپ سامنے آتے ساتھ ہی ویکسین تک منصفانہ رسائی کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔تاحال اعلیٰ آمدنی والے کم از کم 49 ممالک میں ویکسین کی تین کروڑ نوے لاکھ خوارکیں دی گئی ہیں جب کہ سب سے کم آمدنی والے ملک میں صرف پچیس خوراکیں دی گئی ہیں ۔ٹیڈروس نے اس بات پر زور دیا کہ کچھ ممالک کی جانب سےخود کو ترجیح دینے کےباعث دنیا کےانتہائی غریب اور کمزور لوگوں کو خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں کووڈ-19 کی وبا کا پھیلاو جاری رہے گا اور بنی نوع انسان زیادہ مشکلات کا شکار ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے تمام رکن ممالک اور ڈبلیو ایچ او خود کو وبا سے تین سبق حاصل کرنے چاہئیں جن میں وبا کے خلاف رد عمل ، بنی نوع انسان ،مختلف جانوروں اور کرہ ارض کے مابین تعلقات اور عالمی ادارہ صحت کی تعمیر کو مضبوط کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے تمام ممالک سے اتحاد و تعاون کی اپیل کی۔