Home / شاعری / Aisa Khamosh To Manzar Nah Fanaa Ka Hota

Aisa Khamosh To Manzar Nah Fanaa Ka Hota

ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتا

میری تصویر بھی گرتی تو چھناکا ہوتا

یوں بھی اک بار تو ہوتا کہ سمندر بہتا

کوئی احساس تو دریا کی انا کا ہوتا

سانس موسم کی بھی کچھ دیر کو چلنے لگتی

کوئی جھونکا تری پلکوں کی ہوا کا ہوتا

کانچ کے پار ترے ہاتھ نظر آتے ہیں

کاش خوشبو کی طرح رنگ حنا کا ہوتا

کیوں مری شکل پہن لیتا ہے چھپنے کے لیے

ایک چہرہ کوئی اپنا بھی خدا کا ہوتا

About eAwaz

eAwaz

Check Also

Khuli Kitaab Ke Safhay Altte Rehtay Hain

کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیں ہوا چلے نہ چلے دن پلٹتے رہتے ہیں …

Live Radio Stream